Posted by admin on 2025-11-10 11:46:11 | Last Updated by admin on 2026-01-07 09:30:05
Share: Facebook | Twitter | Whatsapp | Linkedin Visits: 138
پاکستان میں آج کل سب سے زیادہ چرچا کسی ایک خبر کا ہے، تو وہ ہے 27واں آئینی ترمیمی بل 2025۔ اس بل نے ملکی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف حکومت اس بل کو بہت اہم اور ضروری بتا رہی ہے، تو دوسری طرف بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اسے آئین کے خلاف ایک بڑی سازش قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ صرف قانون سازی کا نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل اور آئینی ڈھانچے کو بدلنے کا بھی ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ یہ بل کیا ہے، یہ کیوں اہم ہے، اور اس پر اتنا شور کیوں مچا ہوا ہے۔
**27ویں آئینی ترمیمی بل کا بنیادی مقصد کیا ہے؟**
یہ ترمیمی بل ایک ایسا قانونی مسودہ ہے جسے حال ہی میں سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس بل کو وفاقی کابینہ سے منظوری ملنے کے بعد لاء منسٹر اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں رکھا۔ اس بل کا بنیادی مقصد ملک کے آئینی اور عدالتی نظام میں کئی بڑی تبدیلیاں لانا ہے۔ یہ بل آئین کے کئی حصوں میں تبدیلیوں کی بات کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک معمولی قانون نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو بدل سکتا ہے۔
**ترمیمی بل کی اہم باتیں کیا ہیں؟**
اس بل میں کئی ایسی چیزیں شامل ہیں جو عام آدمی کے لیے بھی بہت اہم ہیں۔ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے، تو ملک کے آئینی اور عدالتی نظام میں کئی بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔
**1. نئی وفاقی آئینی عدالت کا قیام**
بل میں سب سے بڑی تجویز ایک نئی وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) بنانے کی ہے۔ اس نئی عدالت کا کام کیا ہوگا، اور یہ کیسے کام کرے گی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ نئی عدالت بنانے کا مقصد سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنا ہے۔
**2. سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی**
اس بل کا ایک اور اہم حصہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کو ملک میں سب سے بڑی عدلیہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اختیارات میں کمی لانے سے ملک کے عدالتی نظام پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی کمانڈ کی چین کو دوبارہ لکھا جائے گا، جس کا مطلب فوج کے اختیارات بڑھانا بھی ہوسکتا ہے۔
**3. صدر پاکستان کو عمر بھر کا استثنا**
ایک اور بہت حیران کن بات یہ ہے کہ اس بل میں صدر پاکستان کو کسی بھی فوجداری کارروائی (Criminal Proceedings) سے عمر بھر کا استثنا دینے کی تجویز ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی صدر کسی فوجداری جرم میں ملوث ہو، تو ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ آئینی استحکام (Constitutional Stability) کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، لیکن اپوزیشن اسے سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
**4. صوبائی حقوق پر ممکنہ اثرات**
اپوزیشن جماعتوں کا سب سے بڑا اعتراض صوبائی حقوق سے متعلق ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خبردار کیا ہے کہ یہ بل صوبوں کے حقوق کو کمزور کرتا ہے۔ اس بل کے ذریعے صوبوں سے پالیسی کنٹرول لیا جا سکتا ہے۔ اس سے صوبوں کی خودمختاری (Autonomy) اور اختیارات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ صوبائی عدالتوں کے سائز کو بڑھانے کے لیے اقدامات بھی شامل کرتا ہے۔
**اس بل پر اتنا تنازع کیوں ہے؟**
جب کوئی قانون ملک کے آئین میں تبدیلی لاتا ہے، تو اس پر بحث ہونا لازمی ہے۔ لیکن 27ویں ترمیمی بل پر جو تنازع کھڑا ہوا ہے، وہ بہت بڑا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے۔
**اپوزیشن کا شدید ردِ عمل اور بائیکاٹ**
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس بل کی منظوری کے عمل میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی لاء کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ پی ٹی آئی اسے آئین کے خلاف ایک گہری سازش قرار دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کسی حکومت کی ملکیت نہیں ہے، بلکہ یہ لوگوں کا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیمی بل عدلیہ کی آزادی (Independence of Judiciary) کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ خاص طور پر جب یہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے اور فوجی کمانڈ چین کو دوبارہ لکھنے کی بات کرتا ہے۔ ان کی تشویش ہے کہ یہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔
**کیا یہ عدلیہ کو کمزور کر دے گا؟**
بل پر اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام سپریم کورٹ کو کمزور کر سکتا ہے۔ یہ عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ تاہم، حکومت میں شامل لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بل عدلیہ کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات لایا ہے۔ ان کے مطابق یہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کو مزید اختیارات دے گا اور صوبائی عدالتوں کی تعداد بھی بڑھائے گا۔ یہ دو مختلف باتیں ہیں، جن پر سیاستدان اور قانونی ماہرین بحث کر رہے ہیں۔
**جمہوریت اور عوام کے حقوق پر اثرات**
پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں آئین کو سب سے بالا سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کے بڑے آئینی بلز پر عوامی بحث اور مکمل پارلیمانی مشاورت بہت ضروری ہے۔ اگر اپوزیشن کو یہ لگے کہ یہ بل جلدی میں یا زبردستی پاس کیا جا رہا ہے، تو یہ جمہوری عمل کے لیے اچھا نہیں ہے۔
جب کوئی قانون صدر کو عمر بھر کا استثنا دیتا ہے، تو اس سے حکمرانی کے معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا کوئی شخص قانون سے بالاتر ہو سکتا ہے؟ یہ سوال ہر عام شہری کے ذہن میں ہے۔ جمہوریت میں سب برابر ہوتے ہیں۔ قانون کی نظر میں کوئی بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا۔
**صوبوں کے حقوق کا دفاع**
صوبائی حقوق کا معاملہ پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت سے اختیارات ملے تھے۔ اگر 27ویں ترمیم ان اختیارات کو کم کرتی ہے، تو اس سے وفاق (Federal) اور صوبوں کے تعلقات میں دراڑ آ سکتی ہے۔ صوبوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے اختیارات کو تحفظ دیا جائے۔ کسی بھی نئے قانون کو صوبوں کی مرضی کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔
**آگے کیا ہو گا؟**
اس بل پر ابھی بھی بحث جاری ہے۔ حکومت نے اسے سینیٹ میں پیش کر دیا ہے اور کمیٹیوں سے منظوری بھی لی ہے۔ لیکن اپوزیشن کے بائیکاٹ اور سخت تنقید کی وجہ سے اس کی منظوری کا راستہ آسان نہیں ہے۔ کسی بھی آئینی ترمیم کو پاس کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس وقت یہ معاملہ ایک قانونی اور سیاسی جنگ بن چکا ہے۔ ملک بھر کی نظریں اب پارلیمنٹ پر ہیں کہ یہ بل کس شکل میں پاس ہوتا ہے، یا کیا یہ حکومت کی خواہش کے باوجود روک دیا جاتا ہے۔ اس ترمیمی بل کا نتیجہ پاکستان کی سیاست، عدلیہ اور صوبائی خودمختاری کے لیے ایک نئی سمت طے کرے گا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ واقعی ملک کے لیے ایک "نیا موڑ" ثابت ہوتا ہے یا ایک نیا سیاسی بحران۔
یہ بل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ملک کے آئینی معاملات میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے، تاکہ ملک کا آئینی ڈھانچہ اور جمہوری اصول مضبوط رہیں۔